کچھ کہے ان کہے سوالات کے جوابات اور وضاحت

کچھ کہے ان کہے سوالات کے جوابات اور وضاحت
۔
جس طرح دنیا کے بہت سے ممالک میں سڑکوں پر مختلف فیسٹیول منائے جاتے ہیں جن پر سب لوگ بازار بند کر کے شریک ہوتے ہیں۔
۔
جس طرح وطن عزیز میں یوم پاکستان اور یوم آزادی پر سڑکیں وغیرہ بند کر کے پریڈ اور دیگر تقریبات منائی جاتی ہیں ۔

اسی طرح

پاکستان مسلم اکثریتی ملک ہے، جہاں کی قاطع اکثریت رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ص اور ان کی آل و اصحاب سے گہری عقیدت رکھتی ہے، اسی لیے عید میلاد النبی پر کئی سڑکیں اور تمام بازار بند ہوتے ہیں۔


نواسہ رسول ص کی عظیم قربانی کی یاد بھی اسی طرح منائی جاتی ہے۔ اور برصغیر کے شیعہ سنی مسلمانوں میں یہ صدیوں سے منائی جارہی ہے۔


انیس سو اسی کے عشرے سے اقتدار میں موجود کچھ ٹیڑھے اور متعصب ذہنوں نے بیرونی انویسٹرز کی خوشنودی کی خاطر مسلمانوں میں فرقہ واریت پھیلانے کے لیے، اور اہل سنت اور اہل تشیع میں نفرت ڈالنے کے لیے ایسا ماحول بنایا ہے کہ عام آدمی ان جلوسوں سے تنگی محسوس کرے اور اس کی زندگی مشکل ہوجائے۔ موبائل فون سروسز بند کر کے، کنٹینر رکھ کر، پولیس و رینجرز کے ناکے لگا کر بظاہر حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن درپردہ لوگوں کی زندگی اجیرن کر کے ان میں ان رسومات سے نفرت ڈالی جارہی ہے۔


علاوہ ازیں ان جلوسوں میں بعض ایسی رسمیں بھی ادا کی جاتی ہیں جو عوام کی اپنی بنائی رسوم ہیں اور بہت نامناسب ہیں ان کا شیعہ مکتب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ فقہ جعفری میں تو بازار میں قمیض اتارنا بھی جائز نہیں ۔ لیکن میڈیا جان بوجھ کر ان رسوم کو ہائی لائیٹ کرتا ہے جو دیکھنے سے عام آدمی میں ان رسموں سے نفرت پیدا ہو۔

عام لوگوں میں شام غریباں جیسی پاکیزہ مجالس، اور نذر و نیاز جیسی انسان دوست اور محبت آفرین رسومات کے بارے میں انتہائی غلط اور شرمناک باتیں پھیلائی جاتی ہیں۔


جس طرح رسول پاک ص سے منسوب اشیاء مثلا نعلین اور پگڑی وغیرہ سے عقیدت ہے اسی طرح آپ ص کے نواسے امام عالی مقام ع کی سواری، حضرت عباس کے علم، چھ ماہ کے شہید حضرت علی اصغر کے جھولے اور اس قسم کی یادگاروں سے عقیدت ہے۔ بعض شیعوں کے ذاتی غلط انداز کی وجہ سے ان کو بھی بلا تحقیق غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔


لہذا تمام پاکستانی عوام سے گزارش ہے کہ ان اقدامات کو مکتب تشیع کے حقیقی پیروکاروں کے اقدامات نہ سمجھیں ۔ اور پس پردہ طاقتوں کے عزائم کو پہچانیں۔

اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔القرآن

سید عون ساجد نقوی
9 محرم الحرام 1441

Check Also

میں ان شعیوں کا کیا کروں!!!

میں ان شعیوں کا کیا کروں

Leave a Reply