poetry

نصیر الدّین نصیرؔ

یہ کام ہم نے جنوں میں کیا، کیا نہ کیا ہُوا جو چاک گریباں سیا، سیا نہ سیا وفورِ شوق میں کیا اعتبار سانسوں کا رہا رہا نہ رہا میں جیا، جیا نہ جیا ہم آتے جاتے ہیں میکدے میں شام و سحر شریکِ جام کسی نے کیا، کیا نہ …

Read More »

امرتا پریتم

تینوں میں فیر ملاں گی سکھوں کے بعد پنجاب جب انگریزوں کے ہاتھ لگا تو انہوں نے ہیئت قلبی کی ایک اور تر کیب نکالی۔ شہر کی ساری آبادی ریل کے پار تھی۔ لہٰذا انگریزوں نے اپنی آ بادی کے لئے پٹڑی کے دوسری طرف کا علاقہ منتخب کیا اور …

Read More »

غزل

ابھی تازہ ہے بہت، گھاؤ بِچھڑ جانے کا گھیر لیتی ہے، تِری یاد سَرِشام ابھی اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے تیرے بِیمار کو آیا نہیں آرام ابھی رات آئی ہے تو کیا، تُم تو نہیں آئے ہو ! میری قِسمت میں، کہاں لِکھّا ہے آرام ابھی جان دینے …

Read More »

کوئی۔۔۔۔۔

کوئی… مجھ سے اگر پوچھے کہ تم بچھڑے بھلا کیسے اسے کیا زعم تھا آخر…؟ جو پل میں راستے بدلے کہ منزل کے قریب ہو کر پلٹنا کیوں پڑا تم کو……؟ یوں تنہائی کے صحرا میں بھٹکنا کیوں پڑا تم کو….؟ مرے دل نے نجانے کیوں ؟ یہ چھوٹی سی …

Read More »

اردو شاعری

میری تصویر بنانے کی جو دُھن ہے تم کو کیا اداسی کے خد و خال بنا پاؤ گے ؟ تم پرندوں کے درختوں کے مصور ہو میاں کس طرح سبزۂ پامال بنا پاؤ گے؟ سر کی دلدل میں دھنسی آنکھ بنا سکتے ہو آنکھ میں پھیلتے پاتال بنا پاؤ گے؟ …

Read More »

اردو

شب کی پازیب سے الجھاہ ہوا تنہاہ گھنگھرو, وصل کے گیت سناتا ہے تو ہم ناچتے ہیں___!

Read More »

آنِسؔ مُعین

آج اُردو کے معروف شاعر آنس معین کی برسی ہے۔ میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا پھر اِس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا آنس معین 29 نومبر 1960 میں پیدا ہوئے ۔ آنس معین کے والد کا نام “فخر الدین بلے” تھا ۔ آنس معین نے …

Read More »

Sad Urdu Poetry

عقیدت توڑ آئ ہوں ،،عبادت چھوڑ آئئ ہوں محبت میں وفاؤں کی روایت چھوڑ آئئ ہوں کسی نے خواب کے بدلے میں حرمت مانگ لی مجھ سے  میں زندہ آنکھ میں مرتی وہ حسرت چھوڑ آئئ ہوں یہ ایسے زخم تھے مجھکو جو اپنی جا ں سے پیارے تھے  سدا …

Read More »

میثم علی آغا

کہیں قبا  تو  کہیں  آستیں  بچھاتے  ہوئےمیں مر گیا  ہوں  وفاداریاں  نبھاتے  ہوئے عجیب رات تھی آنکھیں ہی لے گئی میریمیں بجھ گیا تھا چراغِ  سحر جلاتے  ہوئے سزا کے طور پہ آنکھیں نکال لیں اُس نےمیں رو پڑا تھا کوئی داستاں سناتے ہوئے عجب نہیں تھا  کہ  دریا  لپیٹ  …

Read More »

December

دسمبر  کتنا مشکل ہے صبر کرنا نہ کوئی جینا نہ کوئی مرنا تم کو یاد ہے ؟ وہ شام فرقت میں نے رو کر تمہیں کہا تھا کہیں بھی جانا کہیں بھی رہنا  مگر دسمبر کی سرد راتوں میں لوٹ آنا نہیں نہ آئے ٹھہر ٹھہر کر ہر ایک لمحہ …

Read More »