ڈالر کی قیمت 5 سال میں 102

ڈالر کی قیمت 5 سال میں 102 پر رکھنے کے لیئے آپکو تقریبا 24 سے 25 بلین ڈالر اوپن مارکیٹ میں رکھنا ضروری ہیں- اگر ملک کی ترقی ڈالر کی قیمت ہی سے ماپنی ہے تو تحریک انصاف کے لیئے ڈالر کی قیمت کو 102 پر لانا کوئی مشکل یا بڑی بات نہیں- اپنے تمام خرچے نکال کر صرف 5 بلین ڈالر سالانہ ایکسٹرا مارکیٹ میں رکھنے ہیں- ڈالر کی قیمت 102 پر رہے گی- اور آسمان سر پر اٹھانے والے دانشوڑ یہ بھی بتادیں کہ وہ 5 بلین ڈالر ایکسٹرا کہاں سے آیئں گے؟ کیونکہ آپ کے انقلابی لیڈر ملک کے ہر ادارے سمیت ہر چیز کا تو بیڑہ غرق کرکے گئے ہیں-

آپ کے پاس اس وقت دو راستے ہیں یا تو آپ قرضہ لیکر پچھلا قرضے کی قسط ادا کرکے باقی ڈالر ایسے ہی مارکیٹ میں پھینکتے رہیں ملک بھی چلتا رہے گا-ڈالر کی قیمت بھی 102 پر رہے گی- اور اس کام کے لیئے آپ کو ہر سال 15 بلین ڈالر قرضہ چاہیئے جس میں 9 بلین ڈالر آپ پچھلے قرضے کی قسط ادا کرنے میں لگایئں اور باقی 1 بلین ڈالر اس کے سود کے طور پر ادا کریں اور باقی 5 بلین ڈالر مارکیٹ میں ڈال دیں تاکہ ڈالر کی قیمت 102 رہے- لیکن اس کے بعد جو مزید قرضہ آپکے اوپر چڑھے گا وہ کون پورا کرے گا؟؟ یہ طریقہ مسلم لیگ ن اور پی پی نے اپنایا-اور اسحاق ڈار ٹی وی پر بیٹھ معیشت کو ٹھیک کرنے کے جو پھڑیں مار رہا ہے یہی وہ طریقہ ہے جس سے اسحاق ڈار نے معیشت ٹھیک کرنی ہے- اس سے معیشت ٹھیک نہیں بلکہ معیشت ہمیشہ کے لیئے غرق ہوجائے گی-

دوسرا طریقہ وہ ہے جو اس وقت تحریک انصاف اپنا رہی ہے جس کا مقصد اپنے ملک کے اداروں کا نقصان کم کرکے ان کو منافع میں لانا- پھر بجٹ خسارہ بغیر کسی قرضے کے کم کرنا یا ختم کرنا ہے- اور یہ خسارہ صرف اور صرف ٹیکس کو اکٹھا کرکے اور اداروں سے حاصل ہونے والے منافع سے ہی ممکن ہوسکتا ہے- تیسرا تجارتی خسارے کو ختم کرنا- اس کا سب سے بہترین طریقہ برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کو کم کرنا ہوتا ہے- لیکن فی الوقت پاکستان بر آمدات یک دم نہیں بڑھا سکتا-لہذا اس گیپ کو کم کرنے کے لیئے حکومت نے درآمدات کم کردی- دنیا میں بہت سے ممالک ایسا کرتے ہیں- انڈیا نے اپنی درآمدات پر ہی پابندی لگادی تھی اپنی اکانومی کو بہتر بنانے کے لیئے- لہذا پاکستان نے بھی اپنی درآمدات میں کمی کی-لیکن دانشوڑوں کو یہ بات ہضم نہ ہوئی- اور حکومت پر ٹکچریں کرنی شروع کردی- حالانکہ لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ اس مشکل وقت میں وہ امپورٹڈ برانڈز پر انحصار ختم کرکے اپنے ملک کی چیزوں کو ترجیح دیں- اگر ہر پاکستانی صرف اپنے ملک کی چیزوں کو ترجیح دینا شروع کردیں تو وقتی طور پر ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوجائے گا- تب تک ہماری برآمدات سٹیبل ہوچکی ہونگی- یہی سٹریٹجی تحریک انصاف اس وقت اپنا رہی ہے-ڈالر کی 2014 میں اصل قیمت 102 تھی اور اس کو 8 روپے پر سال کے حساب سے بڑھنا تھا- لیکن اسحاق ڈار نے ہر 8 روپے ڈالر کی قیمت کوبڑھنے سے بچانے کے لیئے مزید قرضہ لیا اور ڈالر کو ٹیکے لگا کر 102 پر رکھا- جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت آنے کے فورا بعد یک دم ڈالر کی قمیت 135 ہوگئی- کیونکہ تحریک انصاف نے ڈالر کو ٹیکے لگانے بند کردیئے تھے-ڈالر کی اصل قیمت وہی ہے جو اس وقت اوپن مارکیٹ میں ہے-

باقی پاکستان کی 20 کروڑ عوام میں سے صرف 11 لاکھ لوگ فائلر ہیں اور تقریبا ڈیڑھ کروڑ لوگ بیرون ملک میں ہیں اور اپنے ملک کو ریمیٹینس کی مد میں پیسے بھیجتے ہیں- اگر وہ سب پیسے بھیجنے والے ہی صرف فائلر ہوجایئں تو ہنڈی سے پیسے بھیجنے والا کوئی نہیں بچے گا- وہ دوسرے ہی دن سب پکڑے جایئں گے- اسی وجہ سے تحریک انصاف کی گورنمنٹ فائلرز کی تعداد کو بڑھانے کے لیئے نان فائلرز پر ٹیکس زیادہ کررہی ہے-اور کرنا بھی چاہیئے- خصوصا بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے لیئے فائلر ہونا زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ لوگ جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے حساب سے ٹیکس دیتے ہیں لیکن ان کو پاکستان میں ٹیکس نہیں پڑتا- کل جب وہ پاکستان آیئں گے اور اپنا سارا پیسہ پاکستان منتقل کریں گے تو ان سے رسیدیں مانگی جایئگی- اس پیسے کا حساب مانگا جائے گا- لہذا بیرون ملک پاکستانیوں کو تو فورا سے پہلے فائلر ہونا جانا چاہیئے- حکومت نے فائلر کی تاریخ 30 اپریل تک بڑھا دی ہے-

پہلے طریقے میں وقتی سکون ہے اور دورے طریقے میں وقتی مشکلات ہیں لہذا دونوں طریقے آپ کے سامنے ہیں آپ اپنی مرضی سے طریقے کا انتخاب کرلیں-کس طریقے سے اپنے ملک کی معیشت کو چلانا ہے اور ان طریقوں کو سمجھنے کے لیئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں اور نا ہی آپکا معیشت دان ہونا ضروری ہے-اور نہ ہی آپکا ایم بی اے ہونا یا پھر اکنامکس پڑی ہونا- یہ باریک باتیں آپکو کوئی میڈیائی اینکر نہیں بتائے گا- کیونکہ انکو خود نہیں پتہ معیشت کس بلا کا نام- اس لیئے بیچارے ڈالر کے ریٹ سے معیشت اچھی اور بری ہونے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں

Check Also

Grenade thrown at N Waziristan girls' school during class 12 examination

Grenade thrown at N Waziristan girls’ school during class 12 examination

Representational image. — AFP/File A grenade was thrown at a girls’ school in North Waziristan …

Leave a Reply