غزل

ابھی تازہ ہے بہت، گھاؤ بِچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے، تِری یاد سَرِشام ابھی

اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
تیرے بِیمار کو آیا نہیں آرام ابھی

رات آئی ہے تو کیا، تُم تو نہیں آئے ہو !
میری قِسمت میں، کہاں لِکھّا ہے آرام ابھی

جان دینے میں کرُوں دیر، یہ مُمکن ہے کہاں
مُجھ تک آیا ہے، مِری جاں! تِرا پیغام ابھی

طائرِ دِل کے ذرا پَر تو نِکل لینے دو
اِس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھی

توڑ سکتا ہے مِرا دِل یہ زمانہ، کیسے
میرے سِینے میں دھڑکتا ہے تِرا نام ابھی

میرے ہاتھوں میں ہے موجُود تِرے ہاتھ کا لمس
دِل میں برپا ہے اُسی شام کا کُہرام ابھی

میں تِرا حُسن، سُخن میں بھلا ڈھالُوں کیسے
میرے اشعار بنے ہیں کہاں اِلہام ابھی

میری نظریں کریں کیسے تِرے چہرے کا طواف
میری آنکھوں نے تو، باندھے نہیں احرام ابھی

یاد کے ابر سے آنکھیں مِری پُرنم ہیں
دُھندلکا ہے ذرا، بِھیگی تو نہیں شام ابھی۔۔!!

Check Also

گریٹر_اسرائیل کی طرف اگلا قدم: مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا پلان تیار

گریٹر_اسرائیل کی طرف اگلا قدم: مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا پلان تیار

Leave a Reply