“بیکن ہاؤس” اور “سٹی سکول” پر پابندی لگ گئی

“بیکن ہاؤس” اور “سٹی سکول” پر پابندی لگ گئی

کچھ ہفتے پہلے ہم نے بیکن ہاؤس اور اس کے ذیلی تعلیمی ادارے “دی ایجوکیٹرز” کی ملک دشمنی آپ کو دکھائی تھی، ان کے نصاب میں موجود پاکستان کے نامکمل نقشے تھے جن میں کشمیر کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور یہاں تک کہ اسکردو کو بھی انڈیا کا حصہ دکھاکر ہمارے بچوں کو پڑھایا جارہا ھا۔

بات یہاں تک ختم نہیں ہوئی، بیکن ہاؤس اور دی ایجوکیٹرز نہ صرف پاکستان کو انڈیا کا حصہ بناکے پڑھا رہے تھے بلکہ ان کے ادارے میں 10 ملین ڈالرز بیرونی فنڈنگ بھی پکڑی گئی تھی اور وہ فنڈنگ بھی امریکی صیہونیوں اور ہندوستانی ہندؤں کی طرف سے کی گئی۔ اس فنڈنگ کے بدلے بیکن ہاؤس نے اپنے نیٹورک کو پورے پاکستان میں پھیلایا اور مسلمانوں کی نئی نسل کو لبرل بےغیرت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

بیکن ہاؤس اور ایجوکیٹرز کو سب سے پہلے “ارمغان حلیم” نامی ایک غیرتمند محب وطن پاکستانی نے بےنقاب کیا تھا، ارمغان دی ایجوکیٹرز کا ہی ایک استاد تھا جس نے ان نقشوں کی نشاندہی کی تھی لیکن اسے خاموش رہنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن یہ غیرتمند اس ملک دشمنی پر خاموش نہیں رہ سکا۔ جس کے بعد خاموش نہ رہنے پر اسے نوکری سے نکال کر اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروایا گیا تاکہ یہ مستقبل میں بھی خاموش رہے۔ ارمغان نے دی ایجوکیٹرز کی ملک دشمنی کا مواد اکٹھا کرکے عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا۔ معاملہ عدالت میں آنے پر ارمغان حلیم کو بیکن ہاؤس کے مالکان ” موجودہ تحریک انصاف کے رہنماء خورشید محمود قصوری” اور اس کی بیوی نے کیس واپس لینے اور خاموش رہنے کے لیے خریدنے کی کوشش کی، نہ خرید سکنے پر اسے حراساں کروایا گیا، اس کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے مگر اس مرد مومن نے ہار نہیں مانی، اس نے ملک کے ہر ادارے پر دستک دی کہ خدارا بیکن ہاؤس اور ایجوکیٹرز کی ملک دشمنی کا سخت نوٹس لیں، اس نے فخر پاکستان “آئی ایس آئی”، سپریم کورٹ، نیکٹا اور تقریبا ہر حکومتی ادارے کو نوٹس لینے کے لیے خطوط لکھے۔

کسی حکومتی ادارے سوائے کاغذی کاروائی کے اس کی کوئی خاص مدد نہیں کی لیکن آئی ایس آئی نے اس کیس کو باقائدہ سنجیدہ لیا اور بیکن ہاؤس اور ایجوکیٹرز کے خلاف خفیہ ریسرچ کروائی، ان کے سکول وزٹ کیے اور باقائدہ آفس سیل کیے، رکارڈ قبضے میں لیا اور تفتیش شروع کردی گئی۔ اس دوران ارمغان کے ہی درخواست پر سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا اور کیس چلنا شروع ہوا۔ اس کیس میں ثابت ہوگیا کہ واقعی بیکن ہاؤس کا ذیلی تعلیمی ادارہ “دی ایجوکیٹرز” ملک دشمنی پر مبنی مواد کئی سالوں سے پڑھا رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے بیکن ہاؤس کے ذیلی تعلیمی ادارے “دی ایجوکیٹرز کو حکم جاری کیا کہ تمام ملک دشمنی پر مبنی نصاب فورا ختم کرکے نیا نصاب جاری کیا جائے اور موجودہ نصاب کو ضبط کیا جائے۔

بیکن ہاؤ اور اس کے ذیلی تعلیمی ادارے دی ایجوکیٹرز نے سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، نہ کبھی نصاب ضبط ہونے دیا نہ ہی نصاب بدل کر نیا نصاب متعارف کیا۔ اس حکم عدولی کے باوجود دی ایجوکیٹرز کئی سالوں سے وہی پرانا ملک دشمنی پر مبنی نصاب پڑھاتا آرہا تھا کیونکہ حکومتی ادارے مال لیکر خاموش کروادیے جاتے تھے۔

الحمداللہ سپریم کورٹ کے احکامات نظرانداز کرنے پر آج “سندھ حکومت” نے بیکن ہاؤس اور سٹی سکول کی رجسٹریشن منسوخ کرکے ان پر پابندی لگادی ہے۔ ہم سندھ حکومت کے محکمہ تعلیم کے اس زبردست اقدام پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔

ابھی تو شروعات ہے، ان ملک دشمن نظریاتی اثاثوں (بیکن ہاؤس، دی ایجوکیٹرز اور سٹی سکول وغیرہ ) کے ساتھ ابھی بہت کچھ ہونا ہے، سندھ میں پابندی لگ گئی، اگر یہ اپنا نصاب بدل کر معافی نہیں مانگتے تو بہت جلد بیکن ہاؤس اور ایجوکیٹرز پر پنجاب اور بقیہ صوبوں میں بھی پابندی لگے گی ان شاء اللہ۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

Check Also

Lahore model murder case: Police obtain Nayab Nadeem's call records

Lahore model murder case: Police obtain Nayab Nadeem’s call records

Model Nayab Nadeem. LAHORE: Police have decided to involve deceased model Nayab Nadeem’s close friends …

Leave a Reply