آنِسؔ مُعین

آج اُردو کے معروف شاعر آنس معین کی برسی ہے۔

میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا
پھر اِس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا

آنس معین 29 نومبر 1960 میں پیدا ہوئے ۔ آنس معین کے والد کا نام “فخر الدین بلے” تھا ۔ آنس معین نے 17 سال کی عمر میں 1977 میں شعری دنیا میں قدم رکھا وادیِ ادب کو سونا کرنے والے نے صرف 9 سال شاعری کی۔ 5 فروری 1986ء کو 26 سال کی عمر میں خودکشی کر کے اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ گیا۔

آنِسؔ مُعین کا آخری خَط

زندگی سے زیادہ عزیز امّی اور پیارے ابّو جان!

خُدا آپ کو ہمیشہ سلامت اور خُوش رَکھّے۔

میری اِس حرکت کی سوائے اِس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ مَیں زندگی کی یکسانیت سے اُکتا گیا ہوں۔ کتابِ زِیست کا جو صفحہ بھی اُلٹتا ہوں اُس پر وہی تحریر نظر آتی ہے جو پچھلے صفحے پر پڑھ چُکا ہوتا ہوں۔ اِسی لیے مَیں نے ڈھیر سارے اَوراق چھوڑ کر وہ تحریر پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے جو آخری صفحے پر لکھّی ہوئی ہے۔

مُجھے نہ تو گھر والوں سے کوئی شکایت ہے نہ دَفتر یا باہر والوں سے۔ بلکہ لوگوں نے تو مُجھ سے اِتنی محبّت کی ہے کہ مَیں اس کا مُستحق بھی نہیں تھا۔

لوگوں نے میرے ساتھ اگر کوئی زیادتی کی بھی ہے یا کِسی نے میرا کُچھ دینا بھی ہے تو مَیں وہ مُعاف کرتا ہوں۔ خُدا میری بھی زیادتیوں اور گُناہوں کو مُعاف فرمائے۔

اور آخِر مِیں ایک خاص بات وہ یہ کہ وقتِ آخِر میرے پاس راہِ خُدا مِیں دینے کو کُچھ نہیں ہے۔ سَو مَیں اپنی آنکھیں Eye Bank کو Donate کرتا ہوں۔ مِیرے بَعد یہ آنکھیں کِسی مُستحق شخص کے لگا دی جائیں تو مِیری رُوح کو حقیقی سکُون حاصِل ہو سکنے کی اُمّید ہے۔

مَرنے کے بَعد مُجھے آپ کی دُعاوں کی پہلے سے زیادہ ضرورت رہے گی۔ البتہ غیر ضروری رَسُومات پر پیسہ خَرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مَیں نے کُچھ رُوپے آمنہ کے پاس اِسی لیے رَکھوا دیے ہیں کہ اِس موقعہ پر کام آ سکیں۔

آپ کا نالائق بیٹا

آنِسؔ مُعین

4-2-86

Check Also

عورت

women day

Leave a Reply